تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القصص ٥٤:٢٨

٥٤:٢٨
اولايك يوتون اجرهم مرتين بما صبروا ويدرءون بالحسنة السيية ومما رزقناهم ينفقون ٥٤
أُو۟لَـٰٓئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا۟ وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ ٥٤
أُوْلَٰٓئِكَ
يُؤۡتَوۡنَ
أَجۡرَهُم
مَّرَّتَيۡنِ
بِمَا
صَبَرُواْ
وَيَدۡرَءُونَ
بِٱلۡحَسَنَةِ
ٱلسَّيِّئَةَ
وَمِمَّا
رَزَقۡنَٰهُمۡ
يُنفِقُونَ
٥٤
هؤلاء الذين تقدَّمَتْ صفتُهم يُؤتَوْن ثواب عملهم مرتين: على الإيمان بكتابهم، وعلى إيمانهم بالقرآن بما صبروا، ومن أوصافهم أنهم يدفعون السيئة بالحسنة، ومما رزقناهم ينفقون في سبيل الخير والبر. وإذا سمع هؤلاء القوم الباطل من القول لم يُصْغوا إليه، وقالوا: لنا أعمالنا لا نحيد عنها، ولكم أعمالكم ووزرها عليكم، فنحن لا نشغل أنفسنا بالرد عليكم، ولا تسمعون منَّا إلا الخير، ولا نخاطبهم بمقتضى جهلكم; لأننا لا نريد طريق الجاهلين ولا نحبها. وهذا من خير ما يقوله الدعاة إلى الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 28:52إلى 28:56

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حق ہے، اس ليے ماننا ۔دوسري یہ کہ اپنے گروہ کا ہے اس ليے ماننا۔ ان دونوں میں صرف پہلی قسم کے انسان ہیں جن کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اور اسی قسم کے لوگ تھے جو دور اوّل میں قرآن اور پیغمبر پر ایمان لائے۔

عیسائیوں اور یہودیوں میں ایک تعداد تھی جو قرآن کو سنتے ہی اس کی مومن بن گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو سابق پیغمبروں کی حقیقی تعلیمات پر قائم تھے۔ اس ليے ان کو پیغمبر آخر الزماں کو پہچاننے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے نئے پیغمبر کو بھی اسی طرح پہچان لیا جس طرح انھوں نے پچھلے پیغمبروں کو پہچانا تھا۔ مگر اپنے آپ کو اس قابل رکھنے کے ليے انھیں ’’صبر‘‘ کے مرحلوں سے گزرنا پڑا۔

انھوںنے اپنے ذہن کو ان اثرات سے پاک رکھا جس کے بعد آدمی حق کی معرفت کے ليے نااہل ہوجاتا ہے۔ یہ وہ تاریخی اور سماجی عوامل ہیں جو آدمی کے ذہن میں خدائی دین کو گروہی دین بنا دیتے ہیں۔ آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ صرف اس دین کو پہچان سکے جو اس کے اپنے گروہ سے ملا ہو۔ وہ اس دین کو پہچاننے میں ناکام رہے جو اس کے اپنے گروہ کے باہر سے اس کے پاس آئے۔ ان اثرات سے محفوظ رہنے کے ليے آدمی کو زبردست نفسیاتی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس ليے اس کو صبر سے تعبیر فرمایا۔ ایسے لوگوں کو دہرا اجر دیا جائے گا۔ ایک ان کی اس قربانی کا کہ انھوںنے اپنے سابقہ ایمان کو گروہی ایمان بننے نہیں دیا۔ اور دوسرے ان کی جوہر شناسی کا کہ ان کے سامنے نیا پیغمبر آیا تو انھوں نے اس کو پہچان لیا اور اس کے ساتھ ہوگئے۔

جن لوگوں کے اندر حق شناسی کا مادہ ہو انھیں کے اندر اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ برائی کریں تب بھی وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی مدد کرے۔ ان کا طریقہ اعراض کا طریقہ ہوتاہے، نہ کہ لوگوں سے الجھنے کا طریقہ۔