تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القصص ٣٧:٢٨

٣٧:٢٨
وقال موسى ربي اعلم بمن جاء بالهدى من عنده ومن تكون له عاقبة الدار انه لا يفلح الظالمون ٣٧
وَقَالَ مُوسَىٰ رَبِّىٓ أَعْلَمُ بِمَن جَآءَ بِٱلْهُدَىٰ مِنْ عِندِهِۦ وَمَن تَكُونُ لَهُۥ عَـٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٣٧
وَقَالَ
مُوسَىٰ
رَبِّيٓ
أَعۡلَمُ
بِمَن
جَآءَ
بِٱلۡهُدَىٰ
مِنۡ
عِندِهِۦ
وَمَن
تَكُونُ
لَهُۥ
عَٰقِبَةُ
ٱلدَّارِۚ
إِنَّهُۥ
لَا
يُفۡلِحُ
ٱلظَّٰلِمُونَ
٣٧
وقال موسى لفرعون: ربي أعلم بالمحقِّ منَّا الذي جاء بالرشاد من عنده، ومَن الذي له العقبى المحمودة في الدار الآخرة، إنه لا يظفر الظالمون بمطلوبهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 28:36إلى 28:37
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔

لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔

صفحہ نمبر6580

اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں علیہم السلام کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے ”کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آ گیا؟۔‏“

کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔‏“

صفحہ نمبر6581