تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القمر ١١:٥٤

١١:٥٤
ففتحنا ابواب السماء بماء منهمر ١١
فَفَتَحْنَآ أَبْوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٍۢ مُّنْهَمِرٍۢ ١١
فَفَتَحۡنَآ
أَبۡوَٰبَ
ٱلسَّمَآءِ
بِمَآءٖ
مُّنۡهَمِرٖ
١١
فأجبنا دعاءه، ففتحنا أبواب السماء بماء كثير متدفق، وشققنا الأرض عيونًا متفجرة بالماء، فالتقى ماء السماء وماء الأرض على إهلاكهم الذي قدَّره الله لهم؛ جزاء شركهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 54:9إلى 54:11
دیرینہ انداز کفر ٭٭

یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ‏ ” اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے “، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔

صفحہ نمبر9004