تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القمر ١:٥٤

١:٥٤
اقتربت الساعة وانشق القمر ١
ٱقْتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلْقَمَرُ ١
ٱقۡتَرَبَتِ
ٱلسَّاعَةُ
وَٱنشَقَّ
ٱلۡقَمَرُ
١
دنت القيامة، وانفلق القمر فلقتين، حين سأل كفار «مكة» النبي صلى الله عليه وسلم أن يريهم آية، فدعا الله، فأراهم تلك الآية.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 54:1إلى 54:8

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔

اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔