تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: المرسلات آية 1

١:٧٧
والمرسلات عرفا ١
وَٱلْمُرْسَلَـٰتِ عُرْفًۭا ١
وَٱلۡمُرۡسَلَٰتِﲁ
عُرۡفٗاﲂ
١ﲃ
أقسم الله تعالى بالرياح حين تهب متتابعة يقفو بعضها بعضًا، وبالرياح الشديدة الهبوب المهلكة، وبالملائكة الموكلين بالسحب يسوقونها حيث شاء الله، وبالملائكة التي تنزل من عند الله بما يفرق بين الحق والباطل والحلال والحرام، وبالملائكة التي تتلقى الوحي من عند الله وتنزل به على أنبيائه; إعذارًا من الله إلى خلقه وإنذارًا منه إليهم ; لئلا يكون لهم حجة. إن الذي توعدون به مِن أمر يوم القيامة وما فيه من حساب وجزاء لنازلٌ بكم لا محالة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 77:1إلى 77:7

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔

ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔