تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: المؤمنون آية 48

٤٨:٢٣
فكذبوهما فكانوا من المهلكين ٤٨
فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا۟ مِنَ ٱلْمُهْلَكِينَ ٤٨
فَكَذَّبُوهُمَاﱹ
فَكَانُواْﱺ
مِنَﱻ
ٱلۡمُهۡلَكِينَﱼ
٤٨ﱽ
فكذبوهما فيما جاءا به، فكانوا من المهلكين بالغرق في البحر.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 23:47إلى 23:49

آیت 47 فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ”فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام پر ایک اعتراض تو وہی کیا جو حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہ السلام کی قومیں اپنے رسولوں کے بارے میں کرچکی تھیں۔ یعنی یہ کہ وہ ہماری طرح کے انسان ہیں۔ لیکن یہاں ایک دوسرا مسئلہ بھی تھا اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا تعلق فرعون کی محکوم قوم سے تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں فرعون کے غلام تھے اور وہ کیسے برداشت کرسکتا تھا کہ اس کی غلام قوم کے دو اشخاص اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے دو بدو بات کریں۔ سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں پر لفظ ”عبادت“ کے اصل مفہوم کو بھی سمجھ لیں۔ ظاہر ہے کہ اس لفظ کا جو مفہوم آج ہمارے ذہنوں میں ہے بنی اسرائیل اس مفہوم میں فرعون یا اس کی قوم کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ یعنی وہ ان کی پرستش یا پوجا نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ وہ ان کی اطاعت کرتے تھے اور یہاں فرعون نے اسی اطاعت کو لفظ ”عبادت“ سے تعبیر کیا ہے۔ چناچہ فرعون کے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قوم ہماری غلام ہے ‘ ہماری اطاعت شعار ہے ‘ ہم ان پر مطلق اختیار رکھتے ہیں ‘ ہم جو چاہیں انہیں حکم دیں اور جیسا قانون ہم چاہیں ان پر لاگو کریں۔ ہم چاہیں تو ان کے لڑکوں کو قتل کرواتے رہیں اور چاہیں تو ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیا کریں۔ یہ لوگ ہمارے غلام اور محکوم ہونے کے باعث ہمارے کسی حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں کرسکتے۔