تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الملك ١٩:٦٧

١٩:٦٧
اولم يروا الى الطير فوقهم صافات ويقبضن ما يمسكهن الا الرحمان انه بكل شيء بصير ١٩
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَى ٱلطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَـٰٓفَّـٰتٍۢ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا ٱلرَّحْمَـٰنُ ۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَىْءٍۭ بَصِيرٌ ١٩
أَوَلَمۡ
يَرَوۡاْ
إِلَى
ٱلطَّيۡرِ
فَوۡقَهُمۡ
صَٰٓفَّٰتٖ
وَيَقۡبِضۡنَۚ
مَا
يُمۡسِكُهُنَّ
إِلَّا
ٱلرَّحۡمَٰنُۚ
إِنَّهُۥ
بِكُلِّ
شَيۡءِۭ
بَصِيرٌ
١٩
أغَفَل هؤلاء الكافرون، ولم ينظروا إلى الطير فوقهم، باسطات أجنحتها عند طيرانها في الهواء، ويضممنها إلى جُنوبها أحيانًا؟ ما يحفظها من الوقوع عند ذلك إلا الرحمن. إنه بكل شيء بصير لا يُرى في خلقه نقص ولا تفاوت. بل مَن هذا الذي هو في زعمكم -أيها الكافرون- حزب لكم ينصركم من غير الرحمن، إن أراد بكم سوءًا؟ ما الكافرون في زعمهم هذا إلا في خداع وضلال من الشيطان. بل مَن هذا الرازق المزعوم الذي يرزقكم إن أمسك الله رزقه ومنعه عنكم؟ بل استمر الكافرون في طغيانهم وضلالهم في معاندة واستكبار ونفور عن الحق، لا يسمعون له، ولا يتبعونه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 67:16إلى 67:19
وہ لا انتہا عفو و مغفرت کا مالک بھی اور گرفت پر قادر بھی ہے ٭٭

ان آیتوں میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے لطف و رحمت کا بیان فرما رہا ہے کہ ” لوگوں کے کفر و شرک کی بناء پر وہ طرح طرح کے دنیوی عذاب پر بھی قادر ہے لیکن اس کا علم اور عفو ہے کہ وہ عذاب نہیں کرتا “۔

جیسے اور جگہ فرمایا «‏وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاِذَا جَاءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا» [35-فاطر:45] ‏ الخ، یعنی ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی برائیوں پر پکڑ لیتا تو روئے زمین پر کسی کو باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں مہلت دیئے ہوئے ہے، جب ان کا وہ وقت آ جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے آپ سمجھ لے گا “۔

یہاں بھی فرمایا کہ ” زمین ادھر ادھر ہو جاتی، ہلنے اور کانپنے لگ جاتی اور یہ سارے کے سارے اس میں دھنسا دیئے جاتے، یا ان پر ایسی آندھی بھیج دی جاتی جس میں پتھر ہوتے اور ان کے دماغ توڑ دیئے جاتے “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا» [17-الإسراء:68] ‏ الخ، یعنی ” کیا تم نڈر ہو گئے ہو کہ زمین کے کسی کنارے میں تم دھنس جاؤ یا تم پر وہ پتھر برسائے اور کوئی نہ ہو جو تمہاری وکالت کر سکے “۔

یہاں بھی فرمان ہے کہ ” اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری دھمکیوں کو نہ ماننے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ تم خود دیکھ لو کہ پہلے لوگوں نے بھی نہ مانا اور انکار کر کے میری باتوں کی تکذیب کی تو ان کا کس قدر برا اور عبرتناک انجام ہوا۔ کیا تم میری قدرتوں کا روزمرہ کا یہ مشاہدہ نہیں کر رہے کہ پرند تمہارے سروں پر اڑتے پھرتے ہیں کبھی دونوں پروں سے کبھی کسی کو روک کر، پھر کیا میرے سوا کوئی اور انہیں تھامے ہوئے ہے؟ میں نے ہواؤں کو مسخر کر دیا ہے اور یہ معلق اڑتے پھرتے یہیں یہ بھی میرا لطف و کرم اور رحمت و نعمت ہے۔ مخلوقات کی حاجتیں ضرورتیں ان کی اصلاح اور بہتری کا نگراں اور کفیل میں ہی ہوں “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاءِ» [16-النحل:79] ‏ الخ، ” کیا انہوں نے ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہیں جن کا تھامنے والا سوائے ذات باری کے اور کوئی نہیں یقیناً اس میں ایمانداروں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں “۔

صفحہ نمبر9644