تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المدثر ٥٤:٧٤

٥٤:٧٤
كلا انه تذكرة ٥٤
كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذْكِرَةٌۭ ٥٤
كـَلَّآ
إِنَّهُۥ
تَذۡكِرَةٞ
٥٤
حقًّا أنَّ القرآن موعظة بليغة كافية لاتِّعاظهم، فمن أراد الاتعاظ اتعظ بما فيه وانتفع بهداه، وما يتعظون به إلا أن يشاء الله لهم الهدى. هو سبحانه أهلٌ لأن يُتقى ويطاع، وأهلٌ لأن يغفر لمن آمن به وأطاعه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 74:54إلى 74:55

کلا انہ ............................ ذکرہ

یہ قرآن جس کے سننے سے یہ لوگ منہ موڑ رہے ہیں اور اس طرح بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے ہیں۔ جبکہ ان کے دل حسد اور لالچ سے بھرے ہیں۔ اور آخرت کے بارے میں یہ لوگ لاپرواہ ہیں۔ یہ تو ایک تذکرہ اور تنبیہ اور نصیحت ہے۔ جو چاہے یہ نصیحت حاصل کرے۔ جو نہ چاہے نہ کرے۔ نفع نقصان ہر کسی کا اپنا ہے۔ جو چاہے عزت اور جنت حاصل کرے اور جو چاہے ذلت اور جہنم حاصل کرے۔

یہ بات کہنے کے بعد کہ لوگ نیک وبد کے اختیار کرنے میں آزاد ومختار ہیں۔ یہ حقیقت بھی سامنے لائی جاتی ہے کہ ان کی یہ آزادی اور اختیار دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور انجام کار تمام امور اللہ کے دائرہ اختیار ہی میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن ہر موقعہ ومناسبت میں واضح کرتا ہے تاکہ انسان یہ نہ سمجھ لے کہ اللہ کی مشیت محدود ہے۔ مطلب یہ کہ انسانی اختیار بھی دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور تمام واقعات اللہ کے حکم ومشیت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔