تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المدثر ٥٢:٧٤

٥٢:٧٤
بل يريد كل امري منهم ان يوتى صحفا منشرة ٥٢
بَلْ يُرِيدُ كُلُّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًۭا مُّنَشَّرَةًۭ ٥٢
بَلۡ
يُرِيدُ
كُلُّ
ٱمۡرِيٕٖ
مِّنۡهُمۡ
أَن
يُؤۡتَىٰ
صُحُفٗا
مُّنَشَّرَةٗ
٥٢
بل يطمع كل واحد من هؤلاء المشركين أن يُنزل الله عليه كتابًا من السماء منشورًا، كما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم. ليس الأمر كما زعموا، بل الحقيقة أنهم لا يخافون الآخرة، ولا يصدِّقون بالبعث والجزاء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

بل یرید .................... منشرة

یہ شعور وہ نبی ﷺ کے ساتھ حسد کی وجہ سے رکھتے تھے کہ حضور ﷺ کو یہ منصب کیوں عطا ہوا ؟ ہر کہ ومنہ یہ چاہتا تھا کہ یہ منصب اسے دیا جائے اور ہر شخص کے اوپر کھلے صحیفے اترتے نظر آئیں۔ یہ اشارہ ہے ان کبرائے قریش کی طرف جو اس بات پر جل بھن گئے تھے کہ محمد (ﷺ) ابن عبداللہ پر یہ کلام کیوں نازل ہوا۔

لو لا ................................ عظیم ” یہ قرآن دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ “ لیکن اللہ نے فرمایا کہ وہ چاہتا ہے کہ منصب رسالت کا اہل کون ہے اور اس عظیم کام کے لئے اس نے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ یہی بات تھی جس کی وجہ سے یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات سے نفرت کرتے تھے اور قبولیت پر آمادہ نہ تھے۔

ان لوگوں کے نفوس کی اندرونی تصویر کشی جاری ہے ، چناچہ اس طمع اور لالچ اور حسد سے بھر پور ایک دوسرا سبب بھی سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بےجا حسد اور لالچ میں کیوں مبتلا ہوگئے ہیں تو اس سے بھی دور رس سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم ہوگئے ہیں۔