تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٣٨:٧٤
كل نفس بما كسبت رهينة ٣٨
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ٣٨
كُلُّ
نَفۡسِۭ
بِمَا
كَسَبَتۡ
رَهِينَةٌ
٣٨
كل نفس بما كسبت من أعمال الشر والسوء محبوسة مرهونة بكسبها، لا تُفَكُّ حتى تؤدي ما عليها من الحقوق والعقوبات، إلا المسلمين المخلصين أصحاب اليمين الذين فكُّوا رقابهم بالطاعة، هم في جنات لا يُدْرَك وصفها، يسأل بعضهم بعضًا عن الكافرين الذين أجرموا في حق أنفسهم: ما الذي أدخلكم جهنم، وجعلكم تذوقون سعيرها؟ قال المجرمون: لم نكن من المصلِّين في الدنيا، ولم نكن نتصدق ونحسن إلى الفقراء والمساكين، وكنا نتحدث بالباطل مع أهل الغَواية والضلالة، وكنا نكذب بيوم الحساب والجزاء، حتى جاءنا الموت، ونحن في تلك الضلالات والمنكرات.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 74:38إلى 74:46
جنتیوں اور دوزخیوں میں گفتگو ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” ہر شخص اپنے اعمال میں قیامت کے دن جکڑا بندھا ہو گا لیکن جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ آیا وہ جنت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوئے جہنمیوں کو بدترین عذابوں میں دیکھ کر ان سے پوچھیں گے کہ تم یہاں کیسے پہنچ گئے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے نہ تو رب کی عبادت کی نہ مخلوق کے ساتھ احسان کیا بغیر علم کے جو زبان پر آیا بکتے رہے جہاں کسی کو اعتراض کرتے سنا ہم بھی ساتھ ہو گئے اور باتیں بنانے لگ گئے اور قیامت کے دن کی تکذیب ہی کرتے رہے یہاں تک کہ موت آ گئی “۔

«یقین» کے معنی موت کے اس آیت میں بھی ہیں «‏وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ» [15-الحجر:99] ‏ یعنی ” موت کے وقت تک اللہ کی عبادت میں لگا رہ “ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کی نسبت حدیث میں بھی یقین کا لفظ آیا ہے۔ ‏ [صحیح بخاری:3929] ‏

10011