تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المدثر ١٢:٧٤

١٢:٧٤
وجعلت له مالا ممدودا ١٢
وَجَعَلْتُ لَهُۥ مَالًۭا مَّمْدُودًۭا ١٢
وَجَعَلۡتُ
لَهُۥ
مَالٗا
مَّمۡدُودٗا
١٢
دعني -أيها الرسول- أنا والذي خلقته في بطن أمه وحيدًا فريدًا لا مال له ولا ولد، وجعلت له مالا مبسوطًا واسعًا وأولادًا حضورًا معه في "مكة" لا يغيبون عنه، ويسَّرت له سبل العيش تيسيرًا، ثم يأمُل بعد هذا العطاء أن أزيد له في ماله وولده، وقد كفر بي. ليس الأمر كما يزعم هذا الفاجر الأثيم، لا أزيده على ذلك؛ إنه كان للقرآن وحجج الله على خلقه معاندًا مكذبًا، سأكلفه مشقة من العذاب والإرهاق لا راحة له منها. (والمراد به الوليد بن المغيرة المعاند للحق المبارز لله ولرسوله بالمحاربة، وهذا جزاء كلِّ من عاند الحق ونابذه).
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 74:11إلى 74:15
جہنم کی ایک وادی، صعود اور ولید بن مغیرہ ٭٭

جس خبیث شخص نے اللہ کی نعمتوں کا کفر کیا اور قرآن کو انسانی قول کہا اس کی سزاؤں کا ذکر ہو رہا ہے، پہلے جو نعمتیں اس پر انعام ہوئی ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ تن تنہا، خالی ہاتھ دنیا میں آیا تھا، مال اولاد دیا اور کچھ اس کے پاس نہ تھا پھر اللہ نے اسے مالدار بنا دیا، ہزاروں لاکھوں دینار، زر، زمین وغیرہ عنایت فرمائی اور باعتبار بعض اقوال کے تیرہ اور بعض اور اقوال کے دس لڑکے دیئے جو سب کے سب اس کے پاس بیٹھے رہتے تھے نوکر، چاکر، لونڈی، غلام کام کاج کرتے رہتے اور یہ مزے سے اپنی زندگی اپنی اولاد کے ساتھ گزارتا، غرض دھن دولت لونڈی غلام بال بچے آرام آسائش ہر طرح کی مہیا تھی، پھر بھی خواہش نفس پوری نہیں ہوتی تھی اور چاہتا تھا کہ اللہ اور بڑھا دے، حالانکہ ایسا اب نہ ہو گا، یہ ہمارے احکامات کے علم کے بعد بھی کفر اور سرکشی کرتا ہے اسے «صعود» پر چڑھایا جائے گا “۔

صفحہ نمبر9973