تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: المائدة آية 76

٧٦:٥
قل اتعبدون من دون الله ما لا يملك لكم ضرا ولا نفعا والله هو السميع العليم ٧٦
قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ۚ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٧٦
قُلۡﲽ
أَتَعۡبُدُونَﲾ
مِنﲿ
دُونِﳀ
ٱللَّهِﳁ
مَاﳂ
لَاﳃ
يَمۡلِكُﳄ
لَكُمۡﳅ
ضَرّٗاﳆ
وَلَاﳇ
نَفۡعٗاۚﳈﳉ
وَٱللَّهُﳊ
هُوَﳋ
ٱلسَّمِيعُﳌ
ٱلۡعَلِيمُﳍ
٧٦ﳎ
قل -أيها الرسول- لهؤلاء الكفرة: كيف تشركون مع الله من لا يَقْدِرُ على ضَرِّكم، ولا على جَلْبِ نفع لكم؟ والله هو السميع لأقوال عباده، العليم بأحوالهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:75إلى 5:76

آیت 75 مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ الاَّ رَسُوْلٌ ج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو سورة آل عمران آیت 144 میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آئے ہیں : وَمَا مُحَمَّدٌ الاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط محمد ﷺ اس کے سوا کیا ہیں کہ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور آپ ﷺ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ تو اسی طرح فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت اللہ کے ایک رسول کی ہے ‘ جس طرح ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌ ط قبل ازیں ہم سورة النساء آیت 69 میں پڑھ چکے ہیں کہ نبیوں کے بعد سب سے اونچا درجہ صدیقین کا ہے۔ خواتین کو اگرچہ نبوت تو نہیں ملی ہے لیکن انبیاء کے بعد کا جو دوسرا درجہ ہے اس میں بہت چوٹی کی حیثیتیں انہیں ملی ہیں۔ ہماری امت کی صدیقہ الکبریّٰ یعنی سب سے بڑی صدیقہ حضرت خدیجہ رض ہیں اور صدیق اکبر کی حیثیت اس امت میں حضرت ابوبکر رض کو ملی ہے۔ حضرت عائشہ رض بھی صدیقہ ہیں۔ اسی طرح حضرت مریم علیہ السلام بھی صدیقہ تھیں۔ کَانَا یَاکُلٰنِ الطَّعَامَ ط۔دونوں انسان تھے ‘ بشر تھے اور سارے بشری تقاضے ان کے ساتھ تھے۔