تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة المائدة، الآية 117

١١٧:٥
ما قلت لهم الا ما امرتني به ان اعبدوا الله ربي وربكم وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شيء شهيد ١١٧
مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْتَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًۭا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ ١١٧
مَاﲝ
قُلۡتُﲞ
لَهُمۡﲟ
إِلَّاﲠ
مَآﲡ
أَمَرۡتَنِيﲢ
بِهِۦٓﲣ
أَنِﲤ
ٱعۡبُدُواْﲥ
ٱللَّهَﲦ
رَبِّيﲧ
وَرَبَّكُمۡۚﲨﲩ
وَكُنتُﲪ
عَلَيۡهِمۡﲫ
شَهِيدٗاﲬ
مَّاﲭ
دُمۡتُﲮ
فِيهِمۡۖﲯﲰ
فَلَمَّاﲱ
تَوَفَّيۡتَنِيﲲ
كُنتَﲳ
أَنتَﲴ
ٱلرَّقِيبَﲵ
عَلَيۡهِمۡۚﲶﲷ
وَأَنتَﲸ
عَلَىٰﲹ
كُلِّﲺ
شَيۡءٖﲻ
شَهِيدٌﲼ
١١٧ﲽ
قال عيسى عليه السلام: يا ربِّ ما قلتُ لهم إلا ما أوحيته إليَّ، وأمرتني بتبليغه من إفرادك بالتوحيد والعبادة، وكنتُ على ما يفعلونه -وأنا بين أظهرهم- شاهدًا عليهم وعلى أفعالهم وأقوالهم، فلما وفيتني أجلي على الأرض، ورفعتني إلى السماء حيًّا، كنت أنت المطَّلِع على سرائرهم، وأنت على كل شيء شهيد، لا تخفى عليك خافية في الأرض ولا في السماء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:116إلى 5:120

قیامت جب آئے گی تو حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے یہ جان لے گا کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ ساری طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ خالق اور مالک، معبود اور مطلوب ہونے میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اس کے سوا کسی کو نہ کوئی طاقت حاصل ہے اور نہ اس کے سوا کوئی اس قابل ہے کہ اس کی عبادت واطاعت کی جائے۔ ایسی حالت میں جب خدا اپنے پیغمبروں سے پوچھے گا کہ میںنے تم کو کیا پیغام دے کر دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ایک ایسی بات کا پوچھنا ہوگا جو پہلے ہی لوگوں کے لیے معلوم شدہ بن چکی ہو گی۔ اس سوال کا جواب اس وقت اتنا کھلا ہوا ہوگا کہ کسی کے بولے بغیر قیامت کا پورا ماحول اس کا جواب پکار رہا ہوگا۔ یہ سوال وجواب محض لوگوں کی رسوائی میںاضافہ کرنے کے لیے ہوگا۔ وہ اس لیے ہوگا کہ پیغمبروں کے سامنے کھڑاکرکے لوگوں پر واضح کیا جائے کہ پیغمبروں کے نام پر جو دین تم نے بنا رکھا تھا وہ ان کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔

یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو آزادی ہے۔ یہاں آدمی خدا اور رسول کی طرف ایسا دین منسوب کرکے بھی پھل پھول سکتا ہے جس کا خدا ورسول سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں فرضی امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں پر بھی جنت کو اپنا حق ثابت کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی قیادت کے ہنگامے کھڑے کرے اور یہ ثابت کرے کہ جو کچھ وہ کررہا ہے وہی عین خدا کا دین ہے۔ مگر قیامت میں اس قسم کی کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ قیامت میں جو چیز کام آئے گی وہ صرف یہ کہ آدمی خدا کی نظر میں سچا ثابت ہو۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان کی دعوے دار بنتی ہیں یا نہیں۔ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرتی ہیں یا نہیں۔