تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المعارج ٤٢:٧٠

٤٢:٧٠
فذرهم يخوضوا ويلعبوا حتى يلاقوا يومهم الذي يوعدون ٤٢
فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَـٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ ٤٢
فَذَرۡهُمۡ
يَخُوضُواْ
وَيَلۡعَبُواْ
حَتَّىٰ
يُلَٰقُواْ
يَوۡمَهُمُ
ٱلَّذِي
يُوعَدُونَ
٤٢
لكن سبق في علمنا ومشيئتنا تأخير عقوبة هؤلاء الكفار، وعدم تبديلهم بقوم آخرين، فاتركهم يخوضوا في باطلهم، ويلعبوا في دنياهم حتى يلاقوا يوم القيامة الذي يوعدون فيه بالعذاب، يوم يخرجون من القبور مسرعين، كما كانوا في الدنيا يذهبون إلى آلهتهم التي اختلقوها للعبادة مِن دون الله، يهرولون ويسرعون، ذليلة أبصارهم منكسرة إلى الأرض، تغشاهم الحقارة والمهانة، ذلك هو اليوم الذي وعدوا به في الدنيا، وكانوا به يهزؤون ويُكَذِّبون.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 70:41إلى 70:43

فذرھم ............................ یوعدون

آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔

یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں استخانوں کی طرف بھاگا کرتے تھے۔ اور ان بتوں کے گرد جمع ہوتے تھے۔ یہ لوگ آج بھی تیزی سے بھاگ رہے ہیں لیکن اس بھگدڑ اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔