تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: المعارج آية 40

٤٠:٧٠
فلا اقسم برب المشارق والمغارب انا لقادرون ٤٠
فَلَآ أُقْسِمُ بِرَبِّ ٱلْمَشَـٰرِقِ وَٱلْمَغَـٰرِبِ إِنَّا لَقَـٰدِرُونَ ٤٠
فَلَآﳨ
أُقۡسِمُﳩ
بِرَبِّﳪ
ٱلۡمَشَٰرِقِﳫ
وَٱلۡمَغَٰرِبِﳬ
إِنَّاﳭ
لَقَٰدِرُونَﳮ
٤٠ﳯ
أقسم تعالى بنفسه، وهو رب المشارق والمغارب للشمس والقمر وسائر الكواكب؛ لما فيها من الآيات الباهرة الدالة على البعث، إنا لقادرون قدرة تامة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 40{ فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ } ”تو نہیں ! قسم ہے مجھے مشرقوں اور مغربوں کے ربّ کی“ قرآن مجید میں صیغہ واحد کے طور پر تو مشرق اور مغرب کا ذکر بہت مرتبہ آیا ہے۔ سورة الرحمن کی آیت 17 میں رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِبھی ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں دونوں سمتوں کے لیے جمع کے صیغے آئے ہیں۔ مشرق و مغرب سے متعلق ان تینوں صیغوں واحد ‘ تثنیہ اور جمع کی وضاحت سورة الرحمن کی آیت 17 کے تحت کی جا چکی ہے۔ { اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ۔ } ”یقینا ہم قادر ہیں۔“