تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: المعارج آية 37

٣٧:٧٠
عن اليمين وعن الشمال عزين ٣٧
عَنِ ٱلْيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ عِزِينَ ٣٧
عَنِﳒ
ٱلۡيَمِينِﳓ
وَعَنِﳔ
ٱلشِّمَالِﳕ
عِزِينَﳖ
٣٧ﳗ
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 70:37إلى 70:38

آیت 37{ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ۔ } ”دائیں اور بائیں سے غول در غول۔“ دراصل مشرکین کو ہر وقت یہ دھڑکا لگتا رہتا تھا کہ جس کسی نے بھی حضور ﷺ سے قرآن سن لیا وہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس لیے حضور ﷺ جب لوگوں کو قرآن سنانے کے لیے کہیں کھڑے ہوتے تو وہ ہر طرف سے دوڑیں لگا کر آپ ﷺ کے پاس پہنچ جاتے۔ ایسا دراصل وہ لوگوں کو حضور ﷺ کے گرد جمع ہونے سے روکنے کے لیے کرتے تھے ‘ تاکہ وہ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن نہ سن سکیں۔