تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الليل ٦:٩٢

٦:٩٢
وصدق بالحسنى ٦
وَصَدَّقَ بِٱلْحُسْنَىٰ ٦
وَصَدَّقَ
بِٱلۡحُسۡنَىٰ
٦
فأمَّا من بذل من ماله واتقى الله في ذلك، وصدَّق بـ"لا إله إلا الله" وما دلت عليه، وما ترتب عليها من الجزاء، فسنرشده ونوفقه إلى أسباب الخير والصلاح ونيسِّر له أموره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 6{ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ } ”اور اس نے تصدیق کی اچھی بات کی۔“ یہ خیر کے راستے کی تیسری شرط یا اس کا تیسرا وصف ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھلائی اور حق کی کوئی بات انسان کے سامنے آئے اور اس کا دل گواہی دے دے کہ ہاں یہ بات حق ہے تو وہ بلاتردّد اس کی تصدیق کردے۔ یعنی وہ بھلائی ‘ سچائی اور حق کی تصدیق کرنے کے لیے عواقب و نتائج کی پروا نہ کرے۔ حق کو حق جان کر اس کی تصدیق و توثیق کے لیے سود و زیاں کا ترازو نصب کر کے نہ بیٹھ جائے اور نہ ہی اس حوالے سے اپنی انا کو آڑے آنے دے۔ جیسے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں اکثر ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کی بحث کے دوران ایک آدمی پر واضح ہوجاتا ہے کہ دوسرے کی بات درست ہے مگر وہ صرف اپنی انا کی وجہ سے اس کے موقف کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔