تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الكهف ٧٤:١٨

٧٤:١٨
فانطلقا حتى اذا لقيا غلاما فقتله قال اقتلت نفسا زكية بغير نفس لقد جيت شييا نكرا ٧٤
فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَـٰمًۭا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًۭا زَكِيَّةًۢ بِغَيْرِ نَفْسٍۢ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْـًۭٔا نُّكْرًۭا ٧٤
فَٱنطَلَقَا
حَتَّىٰٓ
إِذَا
لَقِيَا
غُلَٰمٗا
فَقَتَلَهُۥ
قَالَ
أَقَتَلۡتَ
نَفۡسٗا
زَكِيَّةَۢ
بِغَيۡرِ
نَفۡسٖ
لَّقَدۡ
جِئۡتَ
شَيۡـٔٗا
نُّكۡرٗا
٧٤
فقبل الخَضِر عذره، ثم خرجا من السفينة، فبينما هما يمشيان على الساحل إذ أبصرا غلامًا يلعب مع الغلمان، فقتله الخَضِر، فأنكر موسى عليه وقال: كيف قتلت نفسًا طاهرة لم تبلغ حدَّ التكليف، ولم تقتل نفسًا، حتى تستحق القتل بها؟ لقد فَعَلْتَ أمرًا منكرًا عظيمًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
حکمت الہی کے مظاہر ٭٭

فرمان ہے کہ اس واقعہ کے بعد دونوں صاحب ایک ساتھ چلے، ایک بستی میں چند بچے کھیلتے ہوئے ملے۔ ان میں سے ایک بہت ہی تیز طرار، نہایت خوبصورت، چالاک اور بھلا لڑکا تھا۔ اس کو پکڑ کر خضر علیہ السلام نے اس کا سر توڑ دیا یا تو پتھر سے یا ہاتھ سے ہی گردن مروڑ دی بچہ اسی وقت مر گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کانپ اٹھے اور بڑے سخت لہجے میں کہا، یہ کیا واہیات ہے؟ چھوٹے بےگناہ بچے کو بغیر کسی شرعی سبب کے مار ڈالنا یہ کون سی بھلائی ہے؟ بیشک تم نہایت منکر کام کرتے ہو۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» تفسیر محمدی کا پندرھواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین۔

صفحہ نمبر4958