تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة الجمعة، الآية 9

٩:٦٢
يا ايها الذين امنوا اذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله وذروا البيع ذالكم خير لكم ان كنتم تعلمون ٩
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا۟ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ وَذَرُوا۟ ٱلْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ٩
يَٰٓأَيُّهَاﱁ
ٱلَّذِينَﱂ
ءَامَنُوٓاْﱃ
إِذَاﱄ
نُودِيَﱅ
لِلصَّلَوٰةِﱆ
مِنﱇ
يَوۡمِﱈ
ٱلۡجُمُعَةِﱉ
فَٱسۡعَوۡاْﱊ
إِلَىٰﱋ
ذِكۡرِﱌ
ٱللَّهِﱍ
وَذَرُواْﱎ
ٱلۡبَيۡعَۚﱏﱐ
ذَٰلِكُمۡﱑ
خَيۡرٞﱒ
لَّكُمۡﱓ
إِنﱔ
كُنتُمۡﱕ
تَعۡلَمُونَﱖ
٩ﱗ
يا أيها الذين صدَّقوا الله ورسوله وعملوا بشرعه، إذا نادى المؤذن للصلاة في يوم الجمعة، فامضوا إلى سماع الخطبة وأداء الصلاة، واتركوا البيع، وكذلك الشراء وجميع ما يَشْغَلُكم عنها، ذلك الذي أُمرتم به خير لكم؛ لما فيه من غفران ذنوبكم ومثوبة الله لكم، إن كنتم تعلمون مصالح أنفسكم فافعلوا ذلك. وفي الآية دليل على وجوب حضور الجمعة واستماع الخطبة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 62:9إلى 63:3

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے۔ اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔ مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دبا ہوا ہوتا ہے۔ وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے۔ منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی خدا کو سنانے کا۔

جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔ اب جو شخص ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرے گا۔ اس نے اپنے عہد ایمان کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، جس کا یہ حال ہو کہ اس کے دل نے آوازدی مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کرکے عہد کے خلاف عمل کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہد ایمان کے معاملہ میں بے حس ہوجائے گا— یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنےكا۔