تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الجمعة آية 4

٤:٦٢
ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم ٤
ذَٰلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ ٤
ذَٰلِكَﱮ
فَضۡلُﱯ
ٱللَّهِﱰ
يُؤۡتِيهِﱱ
مَنﱲ
يَشَآءُۚﱳﱴ
وَٱللَّهُﱵ
ذُوﱶ
ٱلۡفَضۡلِﱷ
ٱلۡعَظِيمِﱸ
٤ﱹ
ذلك البعث للرسول صلى الله عليه وسلم، في أمة العرب وغيرهم، فضل من الله، يعطيه مَن يشاء من عباده. وهو -وحده- ذو الإحسان والعطاء الجزيل.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 62:1إلى 62:4

انسان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجنا خدا کی انہیں صفات کا انسانی سطح پر ظہور ہے جن صفات کا ظہور مادی اعتبار سے کائنات کی سطح پر ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کا کام خاص طور پر دو رہا ہے۔ ایک، خدا کی وحی کو لوگوں تک پہنچانا، دوسرا، لوگوں کے شعور کو بیدار کرنا تاکہ وہ خدائی باتوں کو سمجھیں اور اپنی حقيقی زندگی کے ساتھ ان کو مربوط کرسکیں۔ یہی دو کام آئندہ بھی دعوت و اصلاح کی جدوجہد میں مطلوب رہیں گے، یعنی تعلیم قرآن اور ذہنی تربیت۔