تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الجاثية ٣٠:٤٥

٣٠:٤٥
فاما الذين امنوا وعملوا الصالحات فيدخلهم ربهم في رحمته ذالك هو الفوز المبين ٣٠
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِى رَحْمَتِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْمُبِينُ ٣٠
فَأَمَّا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
فَيُدۡخِلُهُمۡ
رَبُّهُمۡ
فِي
رَحۡمَتِهِۦۚ
ذَٰلِكَ
هُوَ
ٱلۡفَوۡزُ
ٱلۡمُبِينُ
٣٠
فأما الذين آمنوا بالله ورسوله في الدنيا، وامتثلوا أوامره واجتنبوا نواهيه، فيدخلهم ربهم في جنته برحمته، ذلك الدخول هو الفوز المبين الذي لا فوز بعده.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 45:30إلى 45:32
کبریائی اللہ عزوجل کی چادر ہے ٭٭

ان آیتوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اس فیصلے کی خبر دیتا ہے جو وہ آخرت کے دن اپنے بندوں کے درمیان کرے گا۔ جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے ہاتھ پاؤں سے مطابق شرع نیک نیتی کے ساتھ اچھے عمل کئے انہیں اپنے کرم و رحم سے جنت عطا فرمائے گا «رحمت» سے مراد جنت ہے۔

جیسے صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے جسے میں چاہوں گا تجھے عطا فرماؤں گا ۔ [صحیح بخاری:4850] ‏

کھلی کامیابی اور حقیقی مراد کو حاصل کر لینا یہی ہے اور جو لوگ ایمان سے رک گئے بلکہ کفر کیا ان سے قیامت کے دن بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا اللہ تعالیٰ کی آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں؟، یعنی یقیناً پڑھی جاتی تھیں اور تمہیں سنائی جاتی تھیں پھر بھی تم نے غرور و نخوت میں آ کر ان کی اتباع نہ کی۔ بلکہ ان سے منہ پھیرے رہے، اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کی تکذیب لیے ہوئے تم نے ظاہراً اپنے افعال میں بھی اس کی نافرمانی کی، گناہوں پر گناہ دلیری سے کرتے چلے گئے، (‏جب کہا جاتا)‏ اور قیامت ضرور قائم ہو گی اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم پلٹ کر جواب دے دیا کرتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کسے کہتے ہیں؟ ہمیں اگرچہ کچھ یوں ہی سا وہم ہوتا ہے لیکن ہرگز یقین نہیں کہ قیامت ضرور ہی آئے گی۔

صفحہ نمبر8422