تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tafsir Ibn Kathir: سورة الإسراء، الآية 66

٦٦:١٧
ربكم الذي يزجي لكم الفلك في البحر لتبتغوا من فضله انه كان بكم رحيما ٦٦
رَّبُّكُمُ ٱلَّذِى يُزْجِى لَكُمُ ٱلْفُلْكَ فِى ٱلْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًۭا ٦٦
رَّبُّكُمُﲾ
ٱلَّذِيﲿ
يُزۡجِيﳀ
لَكُمُﳁ
ٱلۡفُلۡكَﳂ
فِيﳃ
ٱلۡبَحۡرِﳄ
لِتَبۡتَغُواْﳅ
مِنﳆ
فَضۡلِهِۦٓۚﳇﳈ
إِنَّهُۥﳉ
كَانَﳊ
بِكُمۡﳋ
رَحِيمٗاﳌ
٦٦ﳍ
ربكم -أيها الناس- هو الذي يُسَيِّر لكم السفن في البحر؛ لتطلبوا رزق الله في أسفاركم وتجاراتكم. إن الله سبحانه كان رحيمًا بعباده.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
آسانیاں ہی آسانیاں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنا احسان بتاتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی آسانی اور سہولت کے لیے اور ان کی تجارت و سفر کے لیے دریاؤں میں کشتیاں چلا دی ہیں، اس کے فضل و کرم لطف و رحم کا ایک نشان یہ بھی ہے کہ تم دور دراز ملکوں میں جا آ سکتے ہو اور خاص فضل یعنی اپنی روزیاں حاصل کر سکتے ہو۔

صفحہ نمبر4743