تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الإسراء ٦٢:١٧

٦٢:١٧
قال ارايتك هاذا الذي كرمت علي لين اخرتن الى يوم القيامة لاحتنكن ذريته الا قليلا ٦٢
قَالَ أَرَءَيْتَكَ هَـٰذَا ٱلَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلًۭا ٦٢
قَالَ
أَرَءَيۡتَكَ
هَٰذَا
ٱلَّذِي
كَرَّمۡتَ
عَلَيَّ
لَئِنۡ
أَخَّرۡتَنِ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
لَأَحۡتَنِكَنَّ
ذُرِّيَّتَهُۥٓ
إِلَّا
قَلِيلٗا
٦٢
وقال إبليس جراءة على الله وكفرًا به: أرأيت هذا المخلوق الذي ميزته عليَّ؟ لئن أبقيتني حيًا إلى يوم القيامة لأستولينَّ على ذريته بالإغواء والإفساد، إلا المخلصين منهم في الإيمان، وهم قليل.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 17:61إلى 17:62
ابلیس کی قدیمی دشمنی ٭٭

ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کر دیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ “

پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیئے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے، باقی سب کو غارت کر دوں گا۔

صفحہ نمبر4735