تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الانسان آية 29

٢٩:٧٦
ان هاذه تذكرة فمن شاء اتخذ الى ربه سبيلا ٢٩
إِنَّ هَـٰذِهِۦ تَذْكِرَةٌۭ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًۭا ٢٩
إِنَّﱝ
هَٰذِهِۦﱞ
تَذۡكِرَةٞۖﱟﱠ
فَمَنﱡ
شَآءَﱢ
ٱتَّخَذَﱣ
إِلَىٰﱤ
رَبِّهِۦﱥ
سَبِيلٗاﱦ
٢٩ﱧ
إن هذه السورة عظة للعالمين، فمن أراد الخير لنفسه في الدنيا والآخرة اتخذ بالإيمان والتقوى طريقًا يوصله إلى مغفرة الله ورضوانه. وما تريدون أمرًا من الأمور إلا بتقدير الله ومشيئته. إن الله كان عليمًا بأحوال خلقه، حكيمًا في تدبيره وصنعه. يُدْخل مَن يشاء مِن عباده في رحمته ورضوانه، وهم المؤمنون، وأعدَّ للظالمين المتجاوزين حدود الله عذابًا موجعًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 76:23إلى 76:31

حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔