تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الانسان آية 2

٢:٧٦
انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج نبتليه فجعلناه سميعا بصيرا ٢
إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍۢ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَـٰهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًا ٢
إِنَّاﲷ
خَلَقۡنَاﲸ
ٱلۡإِنسَٰنَﲹ
مِنﲺ
نُّطۡفَةٍﲻ
أَمۡشَاجٖﲼ
نَّبۡتَلِيهِﲽ
فَجَعَلۡنَٰهُﲾ
سَمِيعَۢاﲿ
بَصِيرًاﳀ
٢ﳁ
إنا خلقنا الإنسان من نطفة مختلطة من ماء الرجل وماء المرأة، نختبره بالتكاليف الشرعية فيما بعد، فجعلناه من أجل ذلك ذا سمع وذا بصر؛ ليسمع الآيات، ويرى الدلائل، إنا بينَّا له وعرَّفناه طريق الهدى والضلال والخير والشر; ليكون إما مؤمنًا شاكرًا، وإما كفورًا جاحدًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 2 { اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ } ”ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے“ موجودہ دور میں سائنس نے اس آیت کا مفہوم بہت اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ مرد کی طرف سے spermatozoon اور ماں کی طرف سے ovum ملتے ہیں تو zygote وجود میں آتا ہے۔ لیکنظاہر ہے پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کا ایک بدو تو لفظ ”اَمْشَاج“ کو اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق ہی سمجھا ہوگا۔ گویا قرآن مجید کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم ہر زمانے کے ہر قسم کے انسانوں کے لیے قابل فہم رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کے معانی و مطالب میں نئی نئی جہتیں بھی دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ { نَّـبْـتَلِیْہِ } ”ہم اس کو الٹتے پلٹتے رہے“ یعنی رحم مادر میں ہم نے اس ”نُطْفَۃٍ اَمْشَاج“ کو مختلف مراحل سے گزارا۔ نطفہ سے اسے علقہ بنایا۔ علقہ کو مغضہ کی شکل میں تبدیل کیا اور پھر اس کے اعضاء درست کیے۔ ”نَـبْـتَلِیْہِ“ کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے ”تاکہ ہم اس کو آزمائیں“۔ یعنی ہم نے انسان کو امتحان اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ { فَجَعَلْنٰـہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا۔ } ”پھر ہم نے اس کو بنا دیا سننے والا ‘ دیکھنے والا۔“