تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الحجر آية 6

٦:١٥
وقالوا يا ايها الذي نزل عليه الذكر انك لمجنون ٦
وَقَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌۭ ٦
وَقَالُواْﱫ
يَٰٓأَيُّهَاﱬ
ٱلَّذِيﱭ
نُزِّلَﱮ
عَلَيۡهِﱯ
ٱلذِّكۡرُﱰ
إِنَّكَﱱ
لَمَجۡنُونٞﱲ
٦ﱳ
وقال المكذبون لمحمد صلى الله عليه وسلم استهزاءً: يا أيها الذي نُزِّل عليه القرآن إنك لذاهب العقل، هلا تأتينا بالملائكة -إن كنت صادقًا-; لتشهد أن الله أرسلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌمعاذ اللہ ! ثم معاذ اللہ ! ! مجنون ”جن“ سے مشتق ہے۔ عربی میں جن کے معنی مخفی چیز کے ہیں۔ اسی معنی میں رحم مادر میں بچے کو جنین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نظر سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے لفظ ”جنت“ بھی اسی مادہ سے ہے اور اس سے مراد ایسی زمین ہے جو درختوں اور گھاس وغیرہ سے پوری طرح ڈھکی ہوئی ہو۔ سورة الانعام آیت 76 میں حضرت ابراہیم کے تذکرے میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے : فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ یعنی جب رات کی تاریکی نے اسے ڈھانپ لیا۔ چناچہ مجنون اس شخص کو بھی کہا جاتا ہے جس پر جن کے اثرات ہوں آسیب کا سایہ ہو اور اس کو بھی جس کا ذہنی توازن درست نہ ہو۔ رسول اللہ کے بارے میں یہ بات وحی کے بالکل ابتدائی دور میں کہی گئی تھی اور اس کے کہنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو اس طرح کے خیالات کا اظہار معاندانہ انداز میں نہیں بلکہ ہمدردی میں کر رہے تھے۔ یعنی جب ابتدا میں حضور نے نبوت کا دعویٰ کیا اور بتایا کہ غار حرا میں ان کے پاس فرشتہ آیا ہے تو بہت سے لوگوں کو گمان ہوا کہ شاید آپ کو کسی بد روح وغیرہ کا اثر ہوگیا ہے۔ چونکہ نبوت ملنے اور فرشتہ کے آنے کا دعویٰ ان کے لیے بالکل نئی بات تھی اس لیے ان کا واقعی یہ خیال تھا کہ اکیلے کئی کئی راتیں غار حرا میں رہنے کی وجہ سے ضرور آپ پر کسی بد روح یا جن کے اثرات ہوگئے ہیں۔ چناچہ سورة نٓ اس کا دوسرا نام سورة القلم بھی ہے جو کہ بالکل ابتدائی دور کی سورة ہے ‘ اس میں ان لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا : مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُونٍ ”آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں۔“