تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الحجر ٣٧:١٥

٣٧:١٥
قال فانك من المنظرين ٣٧
قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ ٣٧
قَالَ
فَإِنَّكَ
مِنَ
ٱلۡمُنظَرِينَ
٣٧
قال الله له: فإنك ممن أخَّرْتُ هلاكهم إلى اليوم الذي يموت فيه كل الخلق بعد النفخة الأولى، لا إلى يوم البعث، وإنما أُجيبَ إلى ذلك استدراجًا له وإمهالا وفتنة للثقلين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 15:34إلى 15:38
ابدی لعنت ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ” تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی “۔

کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔

صفحہ نمبر4318