تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الحجر آية 18

١٨:١٥
الا من استرق السمع فاتبعه شهاب مبين ١٨
إِلَّا مَنِ ٱسْتَرَقَ ٱلسَّمْعَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌۭ مُّبِينٌۭ ١٨
إِلَّاﱏ
مَنِﱐ
ٱسۡتَرَقَﱑ
ٱلسَّمۡعَﱒ
فَأَتۡبَعَهُۥﱓ
شِهَابٞﱔ
مُّبِينٞﱕ
١٨ﱖ
إلا من اختلس السمع مِن كلام أهل الملأ الأعلى في بعض الأوقات، فأدركه ولحقه كوكب مضيء يحرقه. وقد يُلْقي الشيطان إلى وليه بعض ما استرقَه قبل أن يحرقه الشهاب.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 18 اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ جیسے ایک فرشتہ کچھ احکام لے کر آ رہا ہو اور کوئی جن اس سے کوئی سن گن لینے کی کوشش کرے۔ فرشتے نوری ہیں اور جن ناری مخلوق ہیں چناچہ نور اور نار کے درمیان زیادہ بعد نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہونا ممکن ہے۔ عزازیل ابلیس کا بھی ایک جن ہونے کے باوجود فرشتوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِيْنٌایسی خلاف ورزی کی صورت میں اس جن پر میزائل پھینکا جاتا ہے۔ یہ میزائل اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد کے لیے ستاروں میں نصب کر رکھے ہیں۔