تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة الحج، الآية 15

١٥:٢٢
من كان يظن ان لن ينصره الله في الدنيا والاخرة فليمدد بسبب الى السماء ثم ليقطع فلينظر هل يذهبن كيده ما يغيظ ١٥
مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ ٱللَّهُ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى ٱلسَّمَآءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُۥ مَا يَغِيظُ ١٥
مَنﳒ
كَانَﳓ
يَظُنُّﳔ
أَنﳕ
لَّنﳖ
يَنصُرَهُﳗ
ٱللَّهُﳘ
فِيﳙ
ٱلدُّنۡيَاﳚ
وَٱلۡأٓخِرَةِﳛ
فَلۡيَمۡدُدۡﳜ
بِسَبَبٍﳝ
إِلَىﳞ
ٱلسَّمَآءِﳟ
ثُمَّﳠ
لۡيَقۡطَعۡﳡ
فَلۡيَنظُرۡﳢ
هَلۡﳣ
يُذۡهِبَنَّﳤ
كَيۡدُهُۥﳥ
مَاﳦ
يَغِيظُﳧ
١٥ﳨ
من كان يعتقد أن الله تعالى لن يؤيد رسوله محمدًا بالنصر في الدنيا بإظهار دينه، وفي الآخرة بإعلاء درجته، وعذابِ مَن كذَّبه، فلْيَمدُدْ حبلا إلى سقف بيته وليخنق به نفسه، ثم ليقطع ذلك الحبل، ثم لينظر: هل يُذْهِبنَّ ذلك ما يجد في نفسه من الغيظ؟ فإن الله تعالى ناصرٌ نبيه محمدًا صلى الله عليه وسلم لا محالة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 22:15إلى 22:16

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حق کی طرف پکارا تو جو لوگ ناحق کی بنیاد پر اپنی عمارت کھڑی کيے ہوئے تھے وہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ مخالفت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ایسا معلوم ہوا گویا ناحق کے علم بردار حق کے علم برداروں کا خاتمہ کردیں گے۔ ایسے نازک حالات میں بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ اگر ہم حق پر ہیںتو خدا ہماری مدد کیوں نہیں کرتا۔ حق اور ناحق کی کش مکش میں وہ غیر جانب دار کیوں بنا ہوا ہے۔

فرمایا کہ خدا بلا شبہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتا ہے۔ مگر خدا کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ فوراً مداخلت کرے۔ وہ معاملات کے اس حد تک پہنچنے کا انتظار کرتاہے جہاں ایک فریق کا برسر حق ہونا اور دوسرے فریق کا برسر باطل ہونا پوری طرح ثابت شدہ بن جائے۔ جب یہ حد آجاتی ہے اس وقت خدا بلا تاخیر مداخلت کرکے فیصلہ کردیتاہے۔

یہ خدا کی سنت ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی اس سنت پر راضی کرے۔ کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور چیز اس زمین وآسمان کے اندر ممکن نہیں۔ اس کے سوا ہر راستہ موت کا راستہ ہے، نہ کہ زندگی کا راستہ۔