تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الحج آية 11

١١:٢٢
ومن الناس من يعبد الله على حرف فان اصابه خير اطمان به وان اصابته فتنة انقلب على وجهه خسر الدنيا والاخرة ذالك هو الخسران المبين ١١
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعْبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍۢ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُۥ خَيْرٌ ٱطْمَأَنَّ بِهِۦ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ خَسِرَ ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْخُسْرَانُ ٱلْمُبِينُ ١١
وَمِنَﲆ
ٱلنَّاسِﲇ
مَنﲈ
يَعۡبُدُﲉ
ٱللَّهَﲊ
عَلَىٰﲋ
حَرۡفٖۖﲌﲍ
فَإِنۡﲎ
أَصَابَهُۥﲏ
خَيۡرٌﲐ
ٱطۡمَأَنَّﲑ
بِهِۦۖﲒﲓ
وَإِنۡﲔ
أَصَابَتۡهُﲕ
فِتۡنَةٌﲖ
ٱنقَلَبَﲗ
عَلَىٰﲘ
وَجۡهِهِۦﲙ
خَسِرَﲚ
ٱلدُّنۡيَاﲛ
وَٱلۡأٓخِرَةَۚﲜﲝ
ذَٰلِكَﲞ
هُوَﲟ
ٱلۡخُسۡرَانُﲠ
ٱلۡمُبِينُﲡ
١١ﲢ
ومن الناس مَن يدخل في الإسلام على ضعف وشكٍّ، فيعبد الله على تردد، كالذي يقف على طرف جبل أو حائط لا يتماسك في وقفته، ويربط إيمانه بدنياه، فإن عاش في صحة وسَعَة استمر على عبادته، وإن حصل له ابتلاء بمكروه وشدة عزا شؤم ذلك إلى دينه، فرجع عنه كمن ينقلب على وجهه بعد استقامة، فهو بذلك قد خسر الدنيا؛ إذ لا يغيِّر كفرُه ما قُدِّر له في دنياه، وخسر الآخرة بدخوله النار، وذلك خسران بيِّن واضح. يعبد ذلك الخاسر من دون الله ما لا يضره إن تركه، ولا ينفعه إذا عبده، ذلك هو الضلال البعيد عن الحق. يدعو مَن ضررُه المحقق أقرب من نفعه، قبح ذلك المعبود نصيرًا، وقبح عشيرًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 22:8إلى 22:11

ایک شخص وہ ہے جو دین کو کامل صداقت کے طورپر دریافت کرتاہے۔ دین اس کے دل ودماغ پر پوری طرح چھا جاتا ہے۔ وہ کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو دین کے حوالے کردیتاہے۔ اس کی نظر میں ہر دوسری چیز ثانوی بن جاتی ہے۔ یہی شخص خدا کی نظر میں سچا مومن ہے۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جو بس اوپری جذبہ سے دین کو مانیں۔ ایسے لوگوں کی حقیقی دلچسپیاں اپنے مفادات سے وابستہ ہوتی ہیں۔ البتہ سطحی تأثر کے تحت وہ اپنے آپ کو دین سے بھی وابستہ کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ وابستگی صرف اس وقت تک کے ليے ہوتی ہے جب تک دین کو اختیار کرنے سے انھیں کوئی نقصان نہ ہورہا ہو۔ ان کے مفادات پر اس سے کوئی زد نہ پڑتی ہو۔ جیسے ہی انھوں نے دیکھا کہ دین اوران کا مفاد دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے وہ فوراً ذاتی مفاد کو اختیارکر لیتے ہیں اور دین کوچھوڑ دیتے ہیں۔

یہی دوسري قسم کے لوگ ہیں، جن کو منافق کہاجاتا ہے۔ منافق انسان آخرت کو پانے میں بھی ناکام رہتا ہے اور دنیا کو پانے میں بھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں معاملہ میں کامیابی کے لیے ایک ہی لازمی شرط ہے، اور وہ یکسوئی ہے، اور یہی وہ قلبی صفت ہے جس سے منافق انسان ہمیشہ محروم ہوتا ہے۔ وہ اپنے دو طرفہ رجحان کی وجہ سے نہ پوری طرح آخرت کی طرف یکسو ہوتااور نہ پوری طرح دنیا کی طرف۔اس طرح وہ دونوں میں سے کسی کی بھی لازمی قیمت نہیں دے پاتا۔ ایسے لوگ دو طرفہ محرومی کی علامت بن کر رہ جاتے ہیں۔