تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الحج آية 1

١:٢٢
يا ايها الناس اتقوا ربكم ان زلزلة الساعة شيء عظيم ١
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَىْءٌ عَظِيمٌۭ ١
يَٰٓأَيُّهَاﱁ
ٱلنَّاسُﱂ
ٱتَّقُواْﱃ
رَبَّكُمۡۚﱄﱅ
إِنَّﱆ
زَلۡزَلَةَﱇ
ٱلسَّاعَةِﱈ
شَيۡءٌﱉ
عَظِيمٞﱊ
١ﱋ
يا أيها الناس احذروا عقاب الله بامتثال أوامره واجتناب نواهيه، إن ما يحدث عند قيام الساعة من أهوال وحركة شديدة للأرض، تتصدع منها كل جوانبها، شيء عظيم، لا يُقْدر قدره ولا يُبْلغ كنهه، ولا يعلم كيفيَّته إلا رب العالمين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 22:1إلى 22:4

’’دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچہ کو بھول جائے گی اور حمل والی عورت اپنا حمل گرادے گی‘‘— یہ تمثیل کی زبان میں قیامت کی ہولناکی کا بیان ہے۔ یعنی اس دن لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ اگر ماں کی گود میں دودھ پینے والا بچہ ہو تو گھبراہٹ کی بنا پر وہ اپنے بچہ کو بھول جائے۔ اور اگر کوئی حاملہ عورت ہو تو شدت حول سے اس کا حمل ساقط ہوجائے۔

ہماری موجودہ دنیا میں جو بھونچال آتے ہیں وہ قیامت کے واقعہ کا ہلکا سا نمونہ ہیں۔ قیامت کا سب سے بڑا بھونچال جب آئے گا تو آدمی ہر وہ چیز بھول جائے گا جس کو اہمیت دینے کی وجہ سے وہ قیامت کے دن کو بھولا ہوا تھا۔حتیٰ کہ اپنی عزیز ترین چیز بھی اس دن اس کو یاد نہ رہے گی۔

پیغمبر کی بات علم کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ وہ دلائل سے اس کو ثابت شدہ بناتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے سے باہر کسی صداقت کا اعتراف کرنا نہیں چاہتے وہ اپنے کو برسر حق ظاہر کرنے کے ليے پیغمبر کی بات میں جھوٹی بحثیں نکالتے ہیں۔ اس قسم کی روش خدا کے مقابلہ میں سرکشی کرنے کے ہم معنی ہے۔ جو لوگ اس طرح کی بحثوں کو حق کا پیغام نہ ماننے کے لیے عذر بنائیں وہ گویا شیطان کو اپنا مشیر بنائے ہوئے ہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ خدا کے خوف سے خالی ہیں۔ بے خوفی کی نفسیات آدمی کو اس سے محروم کردیتی ہے کہ وہ حق کو پہچانے اور اس کا اعتراف کرے۔ وہ نہایت آسانی سے شیطان کا معمول بن جاتا ہے۔ ایسا آدمی صرف قیامت کی چنگھاڑ سے جاگے گا۔ مگر قیامت کا زلزلہ ایسے لوگوں کے ليے صرف جہنم کا دروازہ کھولنے کے ليے آتا ہے، نہ کہ ان کو ہدایت کا راستہ دکھانے کے ليے۔