تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: البقرة آية 7

٧:٢
ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى ابصارهم غشاوة ولهم عذاب عظيم ٧
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَـٰرِهِمْ غِشَـٰوَةٌۭ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ٧
خَتَمَﱍ
ٱللَّهُﱎ
عَلَىٰﱏ
قُلُوبِهِمۡﱐ
وَعَلَىٰﱑ
سَمۡعِهِمۡۖﱒﱓ
وَعَلَىٰٓﱔ
أَبۡصَٰرِهِمۡﱕ
غِشَٰوَةٞۖﱖﱗ
وَلَهُمۡﱘ
عَذَابٌﱙ
عَظِيمٞﱚ
٧ﱛ
طبع الله على قلوب هؤلاء وعلى سمعهم، وجعل على أبصارهم غطاء; بسبب كفرهم وعنادهم مِن بعد ما تبيَّن لهم الحق، فلم يوفقهم للهدى، ولهم عذاب شديد في نار جهنم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 7 خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط ایسا کیوں ہوا ؟ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ابتدا ہی میں نہیں لگا دی گئی ‘ بلکہ جب انہوں نے حق کو پہچاننے کے بعدردّکر دیا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی اور ان کی سماعت پر بھی۔ وَعَلٰی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌز یہ مضمون سورة یٰسٓ کے شروع میں بہت شرح و بسط کے ساتھ دوبارہ آئے گا۔ وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ‘ یہ دوسرے گروہ کا تذکرہ ہوگیا۔ ایک رکوع کل سات آیات میں دو گروہوں کا ذکر سمیٹ لیا گیا۔ ایک وہ گروہ جس نے قرآن کریم کی دعوت سے صحیح صحیح استفادہ کیا ‘ ان میں طلب ہدایت کا مادہ موجود تھا ‘ ان کی فطرتیں سلیم تھیں ‘ ان کے سامنے دعوت آئی تو انہوں نے قبول کی اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ وہ گلستان محمدی ﷺ کے گل سرسبد ہیں۔ وہ شجرۂ قرآنی کے نہایت مبارک اور مقدس پھل ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے حق کو پہچان بھی لیا ‘ لیکن اپنے تعصبّ یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کو ردّ کردیا۔ ان کا ذکر بھی بہت اختصار کے ساتھ آگیا۔ ان کا تفصیلی ذکر آپ کو مکی سورتوں میں ملے گا۔ اب آگے تیسرے گروہ کا ذکر آ رہا ہے۔