تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البقرة ٢٥٤:٢

٢٥٤:٢
يا ايها الذين امنوا انفقوا مما رزقناكم من قبل ان ياتي يوم لا بيع فيه ولا خلة ولا شفاعة والكافرون هم الظالمون ٢٥٤
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَـٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌۭ لَّا بَيْعٌۭ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌۭ وَلَا شَفَـٰعَةٌۭ ۗ وَٱلْكَـٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٢٥٤
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
أَنفِقُواْ
مِمَّا
رَزَقۡنَٰكُم
مِّن
قَبۡلِ
أَن
يَأۡتِيَ
يَوۡمٞ
لَّا
بَيۡعٞ
فِيهِ
وَلَا
خُلَّةٞ
وَلَا
شَفَٰعَةٞۗ
وَٱلۡكَٰفِرُونَ
هُمُ
ٱلظَّٰلِمُونَ
٢٥٤
يا من آمنتم بالله وصدَّقتم رسوله وعملتم بهديه أخرجوا الزكاة المفروضة، وتصدَّقوا مما أعطاكم الله قبل مجيء يوم القيامة حين لا بيع فيكون ربح، ولا مال تفتدون به أنفسكم مِن عذاب الله، ولا صداقة صديق تُنقذكم، ولا شافع يملك تخفيف العذاب عنكم. والكافرون هم الظالمون المتجاوزون حدود الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
آج کے صدقات قیامت کے دن شریکِ غم ہوں گے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ بھلائی کی راہ میں اپنا مال خرچ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کا ثواب جمع رہے، اور پھر فرماتا ہے کہ اپنی زندگی میں ہی خیرات و صدقات کر لو، قیامت کے دن نہ تو خرید و فروخت ہو گی نہ زمین بھر کر سونا دینے سے جان چھوٹ سکتی ہے، نہ کسی کا نسب اور دوستی و محبت کچھ کام آ سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ» [ 23-المؤمنون: 101 ] ‏ یعنی ” جب صور پھونکا جائے گا اس دن نہ تو نسب رہے گا نہ کوئی کسی کا پرسان حال ہو گا، اور اس دن سفارشیوں کی سفارش بھی کچھ نفع نہ دیگی“۔ پھر فرمایا کافر ہی ظالم ہیں یعنی پورے اور پکے ظالم ہیں وہ جو کفر کی حالت ہی میں اللہ سے ملیں، عطا بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں شکر ہے اللہ نے کافروں کو ظالم فرمایا لیکن ظالموں کو کافر نہیں فرمایا، [تفسیرابن ابی حاتم 966/3] ‏۔

صفحہ نمبر889