تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: البقرة ١٣:٢

١٣:٢
واذا قيل لهم امنوا كما امن الناس قالوا انومن كما امن السفهاء الا انهم هم السفهاء ولاكن لا يعلمون ١٣
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ كَمَآ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُ ۗ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلسُّفَهَآءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ١٣
وَإِذَا
قِيلَ
لَهُمۡ
ءَامِنُواْ
كَمَآ
ءَامَنَ
ٱلنَّاسُ
قَالُوٓاْ
أَنُؤۡمِنُ
كَمَآ
ءَامَنَ
ٱلسُّفَهَآءُۗ
أَلَآ
إِنَّهُمۡ
هُمُ
ٱلسُّفَهَآءُ
وَلَٰكِن
لَّا
يَعۡلَمُونَ
١٣
وإذا قيل للمنافقين: آمِنُوا -مثل إيمان الصحابة، وهو الإيمان بالقلب واللسان والجوارح-، جادَلوا وقالوا: أَنُصَدِّق مثل تصديق ضعاف العقل والرأي، فنكون نحن وهم في السَّفَهِ سواء؟ فردَّ الله عليهم بأن السَّفَهَ مقصور عليهم، وهم لا يعلمون أن ما هم فيه هو الضلال والخسران.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
خود فریبی کے شکار لوگ ٭٭

مطلب یہ ہے کہ جب ان منافقوں کو صحابہ کی طرح اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے، موت کے بعد جی اٹھنے پر، جنت دوزخ کی حقانیت کے تسلیم کرنے پر، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کر کے نیک اعمال بجا لانے اور برائیوں سے رکے رہنے کو کہا جاتا ہے تو یہ ملعون فرقہ ایسے ایمان والوں کو بےوقوف قرار دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم، ربیع بن انس، عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے یہی تفسیر بیان کی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:293/1] ‏ «سُّفَهَاءٌ» «سَفِيْهٌ» کی جمع ہے جیسے «حکماء» «حکیم» کی اور «حلماء» «حلیم» کی۔ جاہل، کم عقل اور نفع نقصان کے پوری طرح نہ جاننے والے کو «سفیہ» کہتے ہیں۔ قرآن میں اور جگہ ہے: «وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ قِيَامًا» [4-النساء:5] ‏ الخ یعنی ”بیوقوفوں کو اپنے وہ مال نہ دے بیٹھو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے قیام کا سبب بنایا ہے“۔ عام مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت میں «سُّفَهَاءُ» سے مراد عورتیں اور بچے ہیں۔ ان منافقین کے جواب میں یہاں بھی خود پروردگار عالم نے جواب دیا اور تاکیداً «حصر» کے ساتھ فرمایا کہ بیوقوف تو یہی ہیں لیکن ساتھ ہی جاہل بھی ایسے ہیں کہ اپنی بیوقوفی کو جان بھی نہیں سکتے۔ نہ اپنی جہالت و ضلالت کو سمجھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ ان کی برائی اور کمال اندھا پن اور ہدایت سے دوری اور کیا ہو گی؟

صفحہ نمبر126