تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: البلد آية 2

٢:٩٠
وانت حل بهاذا البلد ٢
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ٢
وَأَنتَﱲ
حِلُّۢﱳ
بِهَٰذَاﱴ
ٱلۡبَلَدِﱵ
٢ﱶ
أقسم الله بهذا البلد الحرام، وهو "مكة"، وأنت -أيها النبي- مقيم في هذا "البلد الحرام"، وأقسم بوالد البشرية- وهو آدم عليه السلام- وما تناسل منه من ولد، لقد خلقنا الإنسان في شدة وعناء من مكابدة الدنيا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 2{ وَاَنْتَ حِلٌّم بِہٰذَا الْبَلَدِ۔ } ”اور اے نبی ﷺ ! آپ حلال کرلیے گئے ہیں اس شہر میں۔“ کچھ مترجمین نے اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا ہے کہ ”آپ کے لیے حلال ہوجائے گا یہ شہر“۔ یعنی اگرچہ یہ بلد الحرام ہے ‘ یہاں خونریزی وغیرہ کی اجازت نہیں ‘ لیکن ایک وقت آئے گا کہ آپ ﷺ کو اس کی اجازت مل جائے گی ‘ جیسے فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ حضور ﷺ کے لیے حلال کردیا گیا اور اس دن لشکرکشی کے دوران مسلح تصادم کے اکا دکا واقعات بھی ہوئے۔ البتہ میرے نزدیک آیت کا اصل مدعا اور مفہوم وہی ہے جو میں نے ترجمے میں اختیار کیا ہے کہ اے نبی ﷺ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بلد الحرام میں آپ ﷺ کی عزت پر حملے ہو رہے ہیں ‘ آپ ﷺ کی عزت نفس کو مجروح کیا جا رہا ہے ‘ آپ ﷺ کو مسلسل ستایا جا رہا ہے۔ اس وادی غَیْر ذِی زَرْعٍ کے ماحول میں جہاں معمول کی زندگی بھی سراپا مشقت ہے وہاں اہل شہر کی مخالفت نے آپ ﷺ کے لیے زندگی کو مزید کٹھن اور مشکل بنا دیا ہے۔ چناچہ دعوت حق کی جدوجہد میں مسلسل سختیاں برداشت کرتے ہوئے آپ ﷺ کی زندگی کے شب و روز کی اس وقت جو صورت حال اور کیفیت ہے ‘ ہم اس کی قسم کھا رہے ہیں۔