تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tazkir ul Quran: سورة البلد، الآية 1

١:٩٠
لا اقسم بهاذا البلد ١
لَآ أُقْسِمُ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ١
لَآﱭ
أُقۡسِمُﱮ
بِهَٰذَاﱯ
ٱلۡبَلَدِﱰ
١ﱱ
أقسم الله بهذا البلد الحرام، وهو «مكة» ، وأنت -أيها النبي- حلال في هذا «البلد الحرام» تصنع فيه ما شئت، ولم يحل له إلا ساعة من نهار. وفي الآية بشارة للنبي - صلى الله عليه وسلم - بفتح «مكة» على يده، وحلِّها له في القتال. وأقسم بوالد البشرية -وهو آدم عليه السلام- وما تناسل منه من ولد، لقد خلقنا الإنسان في شدة وعناء من مكابدة الدنيا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 84:1إلى 94:8

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔

یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔