تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: البلد آية 1

١:٩٠
لا اقسم بهاذا البلد ١
لَآ أُقْسِمُ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ١
لَآﱭ
أُقۡسِمُﱮ
بِهَٰذَاﱯ
ٱلۡبَلَدِﱰ
١ﱱ
أقسم الله بهذا البلد الحرام، وهو «مكة» ، وأنت -أيها النبي- حلال في هذا «البلد الحرام» تصنع فيه ما شئت، ولم يحل له إلا ساعة من نهار. وفي الآية بشارة للنبي - صلى الله عليه وسلم - بفتح «مكة» على يده، وحلِّها له في القتال. وأقسم بوالد البشرية -وهو آدم عليه السلام- وما تناسل منه من ولد، لقد خلقنا الإنسان في شدة وعناء من مكابدة الدنيا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 1{ لَآ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ۔ } ”نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔“ اس آیت میں بھی لَآ اُقْسِمُکا مفہوم بالکل وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورة القیامہ کی پہلی اور دوسری آیات یا سورة الانشقاق کی آیت 16 میں پڑھ چکے ہیں۔ یعنی ان آیات میں لَا نافیہ نہیں ہے بلکہ مخاطبین کے خیالاتِ باطلہ کے ابطال کے لیے ہے۔ چناچہ سورة القیامہ کی پہلی آیت { لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ } کا اگر ہم انگریزی ترجمہ کریں تو ہم کہیں گے : Nay , - swear by the Day of Judgement ! دراصل انگریزی میں تو Nay کے بعد کو ما , آجانے سے مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے ‘ لیکن عربی میں چونکہ ”کو ما“ وغیرہ کا استعمال نہیں ہوتا اس لیے سننے یا پڑھنے والا لَآ اُقْسِمُ کا مفہوم یوں بھی سمجھ سکتا ہے کہ ”میں قسم نہیں کھاتا“۔ بہرحال اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ جو کچھ تم لوگ کہہ رہے ہو وہ درست نہیں ‘ بلکہ میں اس شہر یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہوں کہ تمہارے خیالات و نظریات باطل ہیں۔ آگے چل کر واضح ہوجائے گا کہ یہاں مکہ مکرمہ کی قسم کیوں کھائی جا رہی ہے۔