واذكر -أيها الرسول- عصيان بني إسرائيل لربهم سبحانه وتعالى ولنبيهم موسى عليه السلام، وتبديلهم القول الذي أمروا أن يقولوه حين قال الله لهم: اسكنوا قرية «بيت المقدس» ، وكلوا من ثمارها وحبوبها ونباتها أين شئتم ومتى شئتم، وقولوا: حُطَّ عنا ذنوبنا، وادخلوا الباب خاضعين لله، نغفر لكم خطاياكم، فلا نؤاخذكم عليها، وسنزيد المحسنين مِن خَيْرَيِ الدنيا والآخرة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:160إلى 7:162
باب
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔