تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Tafsir Ibn Kathir: سورة الأعراف، الآية 110

١١٠:٧
يريد ان يخرجكم من ارضكم فماذا تامرون ١١٠
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُمْ ۖ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ ١١٠
يُرِيدُﱹ
أَنﱺ
يُخۡرِجَكُمﱻ
مِّنۡﱼ
أَرۡضِكُمۡۖﱽﱾ
فَمَاذَاﱿ
تَأۡمُرُونَﲀ
١١٠ﲁ
يريد أن يخرجكم جميعًا من أرضكم، قال فرعون: فبماذا تشيرون عليَّ أيها الملأ في أمر موسى؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:109إلى 7:110
باب

جب ڈر خوف جاتا رہا، فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہو گئے تو فرعون نے کہا: بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔

اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا۔ ہمیں جلا وطن کر دے گا۔ بتاؤ کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا، وہی سامنے آیا۔

صفحہ نمبر3015