تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنفال ٥٤:٨

٥٤:٨
كداب ال فرعون والذين من قبلهم كذبوا بايات ربهم فاهلكناهم بذنوبهم واغرقنا ال فرعون وكل كانوا ظالمين ٥٤
كَدَأْبِ ءَالِ فِرْعَوْنَ ۙ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِمْ فَأَهْلَكْنَـٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ ۚ وَكُلٌّۭ كَانُوا۟ ظَـٰلِمِينَ ٥٤
كَدَأۡبِ
ءَالِ
فِرۡعَوۡنَ
وَٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِمۡۚ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِ
رَبِّهِمۡ
فَأَهۡلَكۡنَٰهُم
بِذُنُوبِهِمۡ
وَأَغۡرَقۡنَآ
ءَالَ
فِرۡعَوۡنَۚ
وَكُلّٞ
كَانُواْ
ظَٰلِمِينَ
٥٤
شأن هؤلاء الكافرين في ذلك كشأن آل فرعون الذين كذبوا موسى، وشأن الذين كذبوا رسلهم من الأمم السابقة فأهلكهم الله بسبب ذنوبهم، وأغرق آل فرعون في البحر، وكل منهم كان فاعلا ما لم يكن له فِعْلُه من تكذيبهم رسل الله وجحودهم آياته، وإشراكهم في العبادة غيره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 8:53إلى 8:54
اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» [ 13-الرعد: 11 ] ‏ ” اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہو سکتا ہے۔“

” تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گزشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں خزانے محلات اور نعمتیں جن میں وہ بد مست ہو رہے تھے سب چھین لیں۔ اس بارے میں انہوں نے اپنا برا آپ کیا۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا۔“

صفحہ نمبر3341