تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنفال ٥٣:٨

٥٣:٨
ذالك بان الله لم يك مغيرا نعمة انعمها على قوم حتى يغيروا ما بانفسهم وان الله سميع عليم ٥٣
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًۭا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ ٥٣
ذَٰلِكَ
بِأَنَّ
ٱللَّهَ
لَمۡ
يَكُ
مُغَيِّرٗا
نِّعۡمَةً
أَنۡعَمَهَا
عَلَىٰ
قَوۡمٍ
حَتَّىٰ
يُغَيِّرُواْ
مَا
بِأَنفُسِهِمۡ
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
سَمِيعٌ
عَلِيمٞ
٥٣
ذلك الجزاء السيِّئ بأن الله إذا أنعم على قوم نعمة لم يسلبها منهم حتى يغيِّروا حالهم الطيبة إلى حال سيئة، وأن الله سميع لأقوال خلقه، عليم بأحوالهم، فيجري عليهم ما اقتضاه علمه ومشيئته.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 8:53إلى 8:54
اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» [ 13-الرعد: 11 ] ‏ ” اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہو سکتا ہے۔“

” تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گزشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں خزانے محلات اور نعمتیں جن میں وہ بد مست ہو رہے تھے سب چھین لیں۔ اس بارے میں انہوں نے اپنا برا آپ کیا۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا۔“

صفحہ نمبر3341