تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tazkir ul Quran التفسير: الأنبياء آية 8

٨:٢١
وما جعلناهم جسدا لا ياكلون الطعام وما كانوا خالدين ٨
وَمَا جَعَلْنَـٰهُمْ جَسَدًۭا لَّا يَأْكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَمَا كَانُوا۟ خَـٰلِدِينَ ٨
وَمَاﲜ
جَعَلۡنَٰهُمۡﲝ
جَسَدٗاﲞ
لَّاﲟ
يَأۡكُلُونَﲠ
ٱلطَّعَامَﲡ
وَمَاﲢ
كَانُواْﲣ
خَٰلِدِينَﲤ
٨ﲥ
وما جعلنا أولئك المرسلين قبلك خارجين عن طباع البشر لا يحتاجون إلى طعام وشراب، وما كانوا خالدين لا يموتون.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 21:7إلى 21:9

جو لوگ یہ کہہ کہ پیغمبر کا انکار کرتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح کے ایک انسان ہیں، ان سے کہاگیا کہ اگر تم اپنے اس اعتراض میں سنجیدہ ہو تو تمھارے لیے معاملہ کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔ بہت سی گزری ہوئی ہستیاں جن کو تم پیغمبر تسلیم کرتے ہو، ان کے جاننے والے موجود ہیں۔ پھر ان جاننے والوں سے تحقیق کر لو کہ وہ انسان تھے یا غیر انسان اگر وہ انسان تھے تو موجودہ پیغمبر کو تم صرف اس بنا پر کیسے رد کرسکتے ہو کہ وہ ایک ماں باپ کے ذریعہ عام انسان کی طرح پیدا ہوئے ہیں۔

گزشتہ پیغمبروں کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان کا اقرار یا انکار لوگوں کے لیے محض سادہ قسم کا اقرار یا انکار نہ تھا۔ اس نے دونوں گروہوں کے لیے واضح طورپر الگ الگ نتیجہ پیدا کیا۔ اقرار کرنے والوں نے نجات پائی اور انکار کرنے والے ہلاک کردئے گئے۔ اس لیے اس معاملہ میں تم کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہیے۔