تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

تفسير Bayan ul Quran: سورة الأنبياء، الآية 5

٥:٢١
بل قالوا اضغاث احلام بل افتراه بل هو شاعر فلياتنا باية كما ارسل الاولون ٥
بَلْ قَالُوٓا۟ أَضْغَـٰثُ أَحْلَـٰمٍۭ بَلِ ٱفْتَرَىٰهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌۭ فَلْيَأْتِنَا بِـَٔايَةٍۢ كَمَآ أُرْسِلَ ٱلْأَوَّلُونَ ٥
بَلۡﱳ
قَالُوٓاْﱴ
أَضۡغَٰثُﱵ
أَحۡلَٰمِۭﱶ
بَلِﱷ
ٱفۡتَرَىٰهُﱸ
بَلۡﱹ
هُوَﱺ
شَاعِرٞﱻ
فَلۡيَأۡتِنَاﱼ
بِـَٔايَةٖﱽ
كَمَآﱾ
أُرۡسِلَﱿ
ٱلۡأَوَّلُونَﲀ
٥ﲁ
بل جحد الكفار القرآن فمِن قائل: إنه أخلاط أحلام لا حقيقة لها، ومن قائل: إنه اختلاق وكذب وليس وحيًا، ومن قائل: إن محمدًا شاعر، وهذا الذي جاء به شعر، وإن أراد منا أن نصدِّقه فليجئنا بمعجزة محسوسة كناقة صالح، وآيات موسى وعيسى، وما جاء به الرسل من قبله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 5 بَلْ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ م ”کبھی وہ کہتے کہ یہ اللہ کا کلام تو ہرگز نہیں ہے ‘ بلکہ محمد ﷺ سوتے میں خواب دیکھتے ہیں اور خوابوں کے پراگندہ خیالات پر مبنی باتیں لوگوں کو سناتے رہتے ہیں۔بَلِ افْتَرٰٹہُ ”کبھی کہتے کہ یہ کلام تو خود ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے مگر یہ غلط طور پر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ ج ”کبھی کہتے کہ خدا داد شاعرانہ صلاحیت کی بنا پر ان پر آمد ہوتی ہے اور یوں یہ کلام ترتیب پاتا ہے۔فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ” اور کبھی کہتے کہ اگر یہ واقعتا اللہ کے رسول ہیں تو پھر پہلے رسولوں کی طرح ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔