تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنبياء ١١١:٢١

١١١:٢١
وان ادري لعله فتنة لكم ومتاع الى حين ١١١
وَإِنْ أَدْرِى لَعَلَّهُۥ فِتْنَةٌۭ لَّكُمْ وَمَتَـٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ ١١١
وَإِنۡ
أَدۡرِي
لَعَلَّهُۥ
فِتۡنَةٞ
لَّكُمۡ
وَمَتَٰعٌ
إِلَىٰ
حِينٖ
١١١
ولست أدري لعل تأخير العذاب الذي استعجلتموه استدراج لكم وابتلاء، وأن تتمتعوا في الدنيا إلى حين; لتزدادوا كفرًا، ثم يكون أعظم لعقوبتكم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 111 وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ ”شاید اس عذاب موعود کے واقع ہونے میں تاخیر کی وجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں کچھ عرصہ اور رہنے بسنے کی مہلت دے کر تم لوگوں کو مزیدآزما نا چاہتا ہو اور اس کے لیے وہ تم لوگوں کو مزید Fresh lease of existance عطا کردے۔ لیکن بالآخر ہوگا وہی جو میں تمہیں بتارہا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عذاب کا آنا ایک شدنی امر ہے اور وہ آکر رہے گا۔