تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الأنبياء آية 1

١:٢١
اقترب للناس حسابهم وهم في غفلة معرضون ١
ٱقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍۢ مُّعْرِضُونَ ١
ٱقۡتَرَبَﱁ
لِلنَّاسِﱂ
حِسَابُهُمۡﱃ
وَهُمۡﱄ
فِيﱅ
غَفۡلَةٖﱆ
مُّعۡرِضُونَﱇ
١ﱈ
دنا وقت حساب الناس على ما قدَّموا من عمل، ومع ذلك فالكفار يعيشون لاهين عن هذه الحقيقة، معرضين عن هذا الإنذار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 20:134إلى 21:1

فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ”یہ وہی اصول ہے جو ہم سورة بنی اسرائیل میں بھی پڑھ آئے ہیں : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر عذاب ہلاکت اس وقت تک نہیں بھیجتے جب تک اللہ کی طرف سے کوئی رسول آکر واضح طور پر حق کا احقاق اور باطل کا ابطال نہ کردے۔ لیکن رسول کے اتمام حجت کے بعد بھی اگر قوم انکار پر اڑی رہے تو پھر اس کو عذاب استیصال کے ذریعے سے ہلاک کر کے نسیاً منسیاً کردیا جاتا ہے۔