تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنعام ٨:٦

٨:٦
وقالوا لولا انزل عليه ملك ولو انزلنا ملكا لقضي الامر ثم لا ينظرون ٨
وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌۭ ۖ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًۭا لَّقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ ٨
وَقَالُواْ
لَوۡلَآ
أُنزِلَ
عَلَيۡهِ
مَلَكٞۖ
وَلَوۡ
أَنزَلۡنَا
مَلَكٗا
لَّقُضِيَ
ٱلۡأَمۡرُ
ثُمَّ
لَا
يُنظَرُونَ
٨
وقال هؤلاء المشركون: هلا أنزل الله تعالى على محمد مَلَكًا من السماء; ليصدقه فيما جاء به من النبوة، ولو أنزلنا مَلَكًّا من السماء إجابة لطلبهم لقضي الأمر بإهلاكهم، ثم لا يمهلون لتوبة، فقد سبق في علم الله أنهم لا يؤمنون.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 6:7إلى 6:10

لوگ دنیا کو ہار جیت (تغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دو چار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔

ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے، اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا، اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا، وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔