تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الأنعام آية 54

٥٤:٦
واذا جاءك الذين يومنون باياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة انه من عمل منكم سوءا بجهالة ثم تاب من بعده واصلح فانه غفور رحيم ٥٤
وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَـٰتِنَا فَقُلْ سَلَـٰمٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُۥ مَنْ عَمِلَ مِنكُمْ سُوٓءًۢا بِجَهَـٰلَةٍۢ ثُمَّ تَابَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُۥ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٥٤
وَإِذَاﱒ
جَآءَكَﱓ
ٱلَّذِينَﱔ
يُؤۡمِنُونَﱕ
بِـَٔايَٰتِنَاﱖ
فَقُلۡﱗ
سَلَٰمٌﱘ
عَلَيۡكُمۡۖﱙﱚ
كَتَبَﱛ
رَبُّكُمۡﱜ
عَلَىٰﱝ
نَفۡسِهِﱞ
ٱلرَّحۡمَةَﱟ
أَنَّهُۥﱠ
مَنۡﱡ
عَمِلَﱢ
مِنكُمۡﱣ
سُوٓءَۢاﱤ
بِجَهَٰلَةٖﱥ
ثُمَّﱦ
تَابَﱧ
مِنۢﱨ
بَعۡدِهِۦﱩ
وَأَصۡلَحَﱪ
فَأَنَّهُۥﱫ
غَفُورٞﱬ
رَّحِيمٞﱭ
٥٤ﱮ
وإذا جاءك -أيها النبي- الذين صَدَّقوا بآيات الله الشاهدة على صدقك من القرآن وغيره مستفتين عن التوبة من ذنوبهم السابقة، فأكرِمْهم بردِّ السلام عليهم، وبَشِّرهم برحمة الله الواسعة; فإنه جلَّ وعلا قد كتب على نفسه الرحمة بعباده تفضلا أنه من اقترف ذنبًا بجهالة منه لعاقبتها وإيجابها لسخط الله -فكل عاص لله مخطئًا أو متعمدًا فهو جاهل بهذا الاعتبار وإن كان عالمًا بالتحريم- ثم تاب من بعده وداوم على العمل الصالح، فإنه تعالى يغفر ذنبه، فهو غفور لعباده التائبين، رحيم بهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 6:53إلى 6:54

آیت 53 وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ یہ اللہ کی آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ مثلاً ایک شخص مفلس اور نادار ہے ‘ اگر وہ کسی دولت مند اور صاحب منصب و حیثیت شخص کو حق کی دعوت دیتا ہے تو وہ اس پر حقارت بھری نظر ڈال کر مسکرائے گا کہ اس کو دیکھو اور اس کی اوقات کو دیکھو ‘ یہ سمجھانے چلا ہے مجھ کو ! حالانکہ اصولی طور پر اس صاحب حیثیت شخص کو غور کرنا چاہیے کہ جو بات اس سے کہی جا رہی ہے وہ صحیح ہے یا غلط ‘ نہ کہ بات کہنے والے کے مرتبہ و منصب کو دیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح ہم لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں۔لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَاط اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ صاحب حیثیت لوگ تو دعویٰ رکھتے ہیں کہ اللہ کا انعام اور احسان تو ہم پر ہوا ہے ‘ دولت مند تو ہم ہیں ‘ چودھراہٹیں تو ہماری ہیں۔ یہ جو گرے پڑے طبقات کے لوگ ہیں ان کو ہم پر فضیلت کیسے مل سکتی ہے ؟ مکہ کے لوگ بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے اپنی کتاب نازل کرنی تھی ‘ کسی کو نبوت دینی ہی تھی تو اس کے لیے کوئی رَجُل مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْم منتخب کیا جاتا۔ یعنی یہ مکہ اور طائف جو دو بڑے شہر ہیں ان میں بڑے بڑے سردار ہیں ‘ سرمایہ دار ہیں ‘ بڑی بڑی شخصیات ہیں ‘ ان میں سے کسی کو نبوت ملتی تو کوئی بات بھی تھی۔ یہ کیا ہوا کہ مکہ کا ایک یتیم جس کا بچپن مفلسی میں گزرا ہے ‘ جوانی مشقت میں کٹی ہے ‘ جس کے پاس کوئی دولت ہے نہ کوئی منصب ‘ وہ نبوت کا دعویدار بن گیا ہے۔ اس قسم کے اعتراضات کا ایک اور مسکت جواب اسی سورة کی آیت 124 میں ان الفاظ میں آئے گا : اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ط ’ ’ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا منصب کس کو دینا چاہیے۔ اور کس میں اس منصب کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ جیسے طالوت کے بارے میں لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ وہ کیسے بادشاہ بن سکتا ہے جبکہ اسے تو مال و دولت کی وسعت بھی نہیں دی گئی : وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط البقرۃ : 247 ہم دولت مند ہیں ‘ ہمارے مقابلے میں اس کی کوئی مالی حیثیت نہیں۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ طالوت کو جسم اور علم کے اندر کشادگی بَسْطَۃً فِی الْْعِلْمِ وَالْجِسْمِ عطا فرمائی گئی ہے۔ لہٰذا اس میں بادشاہ بننے کی اہلیت تم لوگوں سے زیادہ ہے۔یہاں رسول اللہ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ ان غریب و نادار مؤمنین کے ساتھ آپ کا معاملہ کیسا ہونا چاہیے۔