تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنعام ٤٠:٦

٤٠:٦
قل ارايتكم ان اتاكم عذاب الله او اتتكم الساعة اغير الله تدعون ان كنتم صادقين ٤٠
قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيْرَ ٱللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٤٠
قُلۡ
أَرَءَيۡتَكُمۡ
إِنۡ
أَتَىٰكُمۡ
عَذَابُ
ٱللَّهِ
أَوۡ
أَتَتۡكُمُ
ٱلسَّاعَةُ
أَغَيۡرَ
ٱللَّهِ
تَدۡعُونَ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
٤٠
قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين: أخبروني إن جاءكم عذاب الله في الدنيا أو جاءتكم الساعة التي تبعثون فيها: أغير الله تدعون هناك لكشف ما نزل بكم من البلاء، إن كنتم محقين في زعمكم أن آلهتكم التي تعبدونها من دون الله تنفع أو تضر؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 6:40إلى 6:41

آیت 40 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَج اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ یہ بھی متجسسانہ searching انداز میں ان سے سوال کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کا معمول بھی تھا اور مشاہدہ بھی ‘ کہ جب بھی کبھی کوئی مصیبت آتی ‘ سمندر میں سفر کے دوران کبھی طوفان آجاتا ‘ موت سامنے نظر آنے لگتی تو پھر لات ‘ منات ‘ عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسراخدا انہیں یاد نہ رہتا۔ ایسے مشکل وقت میں وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ چناچہ خود ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہر شخص ذرا اپنے دل سے پوچھے ‘ کہ آخر مصیبت کے وقت ہمیں ایک اللہ ہی کیوں یاد آتا ہے ؟ گویا ایک اللہ کو ماننا اور اس پر ایمان رکھنا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ کسی شخص میں شرافت کی کچھ بھی رمق موجود ہو تو اس طرح کے سوالات کے جواب میں اس کا دل ضرور گواہی دیتا ہے کہ ہاں بات تو ٹھیک ہے ‘ ایسے مواقع پر ہماری اندرونی کیفیت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے اور بےاختیار اللہ ہی کا نام زبان پر آتا ہے۔