تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: الأنعام آية 135

١٣٥:٦
قل يا قوم اعملوا على مكانتكم اني عامل فسوف تعلمون من تكون له عاقبة الدار انه لا يفلح الظالمون ١٣٥
قُلْ يَـٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌۭ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَـٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ١٣٥
قُلۡﱴ
يَٰقَوۡمِﱵ
ٱعۡمَلُواْﱶ
عَلَىٰﱷ
مَكَانَتِكُمۡﱸ
إِنِّيﱹ
عَامِلٞۖﱺﱻ
فَسَوۡفَﱼ
تَعۡلَمُونَﱽ
مَنﱾ
تَكُونُﱿ
لَهُۥﲀ
عَٰقِبَةُﲁ
ٱلدَّارِۚﲂﲃ
إِنَّهُۥﲄ
لَاﲅ
يُفۡلِحُﲆ
ٱلظَّٰلِمُونَﲇ
١٣٥ﲈ
قل -أيها الرسول-: يا قوم اعملوا على طريقتكم فإني عامل على طريقتي التي شرعها لي ربي جل وعلا فسوف تعلمون -عند حلول النقمة بكم- مَنِ الذي تكون له العاقبة الحسنة؟ إنه لا يفوز برضوان الله تعالى والجنة مَن تجاوز حده وظلم، فأشرك مع الله غيره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت 135 قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ج۔یہ گویا چیلنج کرنے کا سا انداز ہے کہ مجھے تم لوگوں کو دعوت دیتے ہوئے بارہ برس ہوگئے ہیں۔ تم نے اس دعوت کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے ‘ ہر ہر طرح سے مجھے ستایا ہے ‘ تین سال تک شعب بنی ہاشم میں محصور رکھا ہے ‘ میرے ساتھیوں پر تم لوگوں نے تشدد کا ہر ممکن حربہ آزمایا ہے۔ غرض تم میرے خلاف جو کچھ کرسکتے تھے کرتے رہے ہو ‘ ابھی مزید بھی جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو ‘ جو میرا فرض منصبی ہے وہ میں ادا کر رہا ہوں۔فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ لا مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدّارِط اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔عاقبت کی دائمی کامیابی کس کے لیے ہے ؟ کس کے لیے وہاں جنت ہے ‘ روح و ریحان ہے اور کس کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ؟ یہ عنقریب تم لوگوں کو معلوم ہوجائے گا۔