تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الأنعام ١٢٧:٦

١٢٧:٦
۞ لهم دار السلام عند ربهم وهو وليهم بما كانوا يعملون ١٢٧
۞ لَهُمْ دَارُ ٱلسَّلَـٰمِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٢٧
۞ لَهُمۡ
دَارُ
ٱلسَّلَٰمِ
عِندَ
رَبِّهِمۡۖ
وَهُوَ
وَلِيُّهُم
بِمَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
١٢٧
للمتذكرين عند ربهم جل وعلا يوم القيامة دار السلامة والأمان من كل مكروه وهي الجنة، وهو سبحانه ناصرهم وحافظهم جزاءً لهم; بسبب أعمالهم الصالحة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 6:126إلى 6:127
قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے ٭٭

گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ ” سیدھی اور صاف راہ جو بے روک اللہ کی طرف پہنچا دے “ یہی ہے «مُسْتَقِيمًا» کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے -پس شرع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے۔

چنانچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے ۔ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ (‏ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ)

جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر موید و مولٰی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہو گا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے۔

صفحہ نمبر2758